Aside

بلوچستان ؛ تعلیم واحد امید ہے

ناخواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ، بلوچستان سرِ فہرست ہے۔ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 23 لاکھ بچے غربت، وسائل کی کمی، بنیادی ڈھانچے میں کمزوریاں اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایسے میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے ذریعے کم خرچ پرلڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ بالخصوص مکران ڈویژن جس نے عطاء شاد، مبارک قاضی، واجہ فقیر بلوچ جیسے لوگ پیدا کئے اور مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کا علم بلند کئے رکھا، اصولی طور پر تو ایسے لوگوں کو سراہنا چاہیے تھا مگر تعریف تو کجا، مکران کے ڈسٹرکٹ پنجگور میں قائم تمام پرائیوٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے خلاف ایک غیر معروف شدت پسند گروہ “تنظیم الاسلامی الفرقان” کی طرف سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ ان پمفلٹ میں انگریزی تعلیم کو حرام قرار دیا گیا ہے اور دھمکی دی گئی ہےکہ جو بھی تعلیمی ادارہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھے گا ، اسے اسلام کا دشمن سمجھا جائے گا۔ اس کی ساتھ ساتھ طالبات کو اسکول لیجانے والے ٹیکسی اور وین ڈرائیوروں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ان طالبات کو اسکول لے کر جائیں گے تو انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا، اس دھمکی کے بعد تمام اسکول بند کر دیے گئے۔ گو کہ ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اسکول دوبارہ کھول دیے گئے لیکن چند روز بعد شدت پسند تنظیم کی جانب سے اسکولوں پر حملوں اور ایک اسکول وین کو آگ لگا نے کے واقعات کے باعث پنجگور کے تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں اور ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے خلاف پنجگور میں ہزاروں افراد کا احتجاج جاری ہے۔

کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں،اتنی سخت سیکیورٹی کے میں ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نوٹس لینے کے سوا تاحال کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی اور سکولوں کی بندش کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں فاٹا اور سوات میں بھی لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ۔ ایسے واقعات کا بار بار جنم لینا حکومت کی طرف سے موئژر پالیسی کا فقدان ہے۔ پنجگور میں اسکولوں کی بندش کا باعث بننے والی تنظیم کیا ان بلوچ حریت پسندوں سے زیادہ “محب وطن” ہے جو ریاست اور وفاق کے استحصال کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں لاپتہ افراد اور ان کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچوں کےلئے اجتماعی قبروں، فوجی کاروائیوں اور مسخ شدہ لاشوں کے بعد اپنے بچوں کے ان پڑھ رہ جانے کےخدشہ کے بعد ریاست اور وفاق سے وفاداری کا عہد وہ بہت عرصہ تک نہیں نبھا سکیں گے۔ ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔ اس سے پہلے کے بلوچستان کے طلبہ کو مقامی “بوکوحرام” کے ہاتھوں یرغمال ہونا پڑے، حکومت کو بلوچوں کی آنے والی نسل کو محفوظ بنانا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس نسل کو تحفظ دینے سے پاکستان اور بلوچستان کے درمیان کمزور ہوتے ہوئے رشتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے

ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔

محترم ڈاکٹر عبدلالمالک صاحب،
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
جنابِ والا: ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر
پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے

کہ آپ ہم میں سے نہیں رہے۔

originally posted in laaltain.com on May 31, 2014

Aside


Let us not turn Panjgur into Swat and wait for another Malala to be a saver!


 

 

Balochistan has been in turmoil since its occupation in 1948 and from that time up till now Balochistan has been facing insurgencies. Balochistan conflict started over the resentment of being illegally occupied by Pakistan and with passing of time this resentment turned into a movement of Baloch rights, and provincial rights. Unfortunately the impotency of Pakistan government and deployment of armed forces in Balochistan kept fueling the issue. Especially the death of Nawab Akbar Khan Bugti by Armed forces was the last nail in the coffin and since then the Baloch movement for rights has completely transformed in to a movement of a Free Balochistan.

 Never in Pakistan history, had government or establishment ever taken steps to resolve Balochistan issue peacefully. Instead, kill and dump policy, extra judicial killing, enforced disappearances, genocide, and military operations are the dirty tactics being adopted by government and establishment. Thousands of Baloch are missing; hundreds of their mutilated bodies have been found, mass graves of Baloch missing persons have been discovered, ongoing military operations in many parts of Balochistan, extreme human rights violation is what Baloch nation is suffering from. In reaction to this action, Baloch nation is not only forced to adapt arm resistance for survival but also 2000 km long march from Quetta to Karachi and Karachi to Islamabad and a recent hunger strike till death being observed by Latif Johar for the recovery of Baloch missing Persons is to draw attention of International human right organizations to intervene and resolve Balochistan conflict. pujgur threat

At the moment struggle of Baloch rights and use of full force by establishment to crush this movement is on peak. Baloch who are already suffering miserably are now being exposed to another threat from an underground organization Tanzeem-ul-Islami-ul-Furqan, an armed group based in Panjgur, Balochistan’s western district, has threatened 23 English Language Learning Centers to shut down and stop imparting co-education and teaching in English, which they say is ‘Haram (prohibited) in Islam’. Local police advised that under such circumstances girls should not go to school.This development came after the recent operation against Baloch (so called) militants. Though this is not an only attempt to discourage girls from getting education in Balochistan, many times educational institutions have been bombarded, girls have been threatened in past also from going to Schools and colleges.

It seems that someone is trying to radicalize people in Panjgur. This is the first time that we have seen Baloch women taking an effective part in the progressive Baloch rights movement. From doctors, lawyers, teachers to journalists, and political activists we can see the strong presence of Baloch women. Stopping girls from getting education means to seize the development of Baloch society. And to mention here Panjgur and Kech regions are known as centers of learning and the ‘intellectual capital of Balochistan’.

 In the preS-16sent scenario of Panjgur where along with Balochistan Levies and local Police, more than 15000  personnel of the army and the Frontier Corps (FC) are deployed, a heavily guarded district where a military  operation is also in a full swing has been threatened by an unknown organization. Question is; where does this  organization come from? How did it prevail under the strong presences of paramilitary forces? Who will benefit  from this threat? Why ‘halal’, ‘haram’ and ’Islam’ issues are only raised in the areas where Pak Army has dirty  targets to achieve?

 Unfortunately Pak Army and state carries a history of promoting radical Islam as a tool to fight against ‘unwanted’. Spilling-over of Taliban culture into Panjgur is not just a threat to Baloch nation but to bring down  Baloch Nationalist on their knees at any cost. The threat to eradicate education from Balochistan is an attempt to weaken the progress and prosperity of Baloch nation.

To save Baloch is directly proportional to saving Balochistan. In this worsening situation Mr. Sabir Baloch,    the Deputy Chairman of the Senate of Pakistan and Mr. Rehmat Baloch, Balochistan’s Health Minister      whose    native land is Panjgur should speak up and address this issue on federal and provincial level.  Also    humanitarian organizations and civil society should also raise slogan. Let us not turn Panjgur into Swat and wait for another Malala to be a saver!