وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے ایک گزارش

Image 

محترم ڈاکٹرمالک بلوچ صاحب 

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

عرض یہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں جہاں بلوچ عوام پہلے ہی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، جہاں ہر روز بلوچ لاپتہ افراد کی لاشیں گر رہی ہیں، لاپتہ بلوچوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی چیخیں گونج رہی ہیں،ملٹری آپریشن ہو رہے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں، ایک ڈر اور خوف پھیلا ہوا ہے، ایسے سنگین حالات میں ان کی بچی کھچی تعلیم کے ذرائع ختم کرنے کیلیے ایک نامعلوم گروہ کہیں سےاچانک پیدا ہو گیا ہے۔ پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے 15000 اہلکار تعینات ہیں،اتنے سخت سیکیورٹی کے حصار میں  ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے

 جنابِ والا:  ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور  میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں  نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔  اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے کہ آپ بھی اختیار کے بغیر اقتدار کی کرسی پر پراجمان رہنے والے ڈمی حکمران سے ذیادہ کچھ نہیں۔ اور مستقبل میں بلوچستان کے حالات میں آپ سے بہتری کی امید کو دفن کر دیں گے۔

                                                      شکریہ

Advertisements

پاکستان کا بلوچستان

Imageمجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہا کی میرا تعلق کویٹہ بلوچستان سے ہے۔ لیکن اس سے ذیادہ فخر ایک پاکستانی ہونے کا تھا۔ بالخصوص کچی عمر میں مطالعہ پاکستان میں اس صوبے کی دیو مالائی کہانیاں پڑھنے کے بعد جب شعور نے انگڑائی لی اور بلوچستان کے ننگے، خشک اور معدنیات سے بھرے ہوئے پہاڑ۔ صحرا۔ سمندر۔ بلوچوں کی روایات۔ تہذیب و تمدن اور ذندگی کو دیکھنے اور کھوجنے کا شوق ہوا تو میرا سر بحیثیت پاکستانی فخر سے مزید بلند ہو گیا۔ خاص طور پر اس صوبے میں فوج اور انٹیلے جنس کی کارکردگی نے پاکستانیت کے جذبے کو چار چاند لگا دیئے۔

 بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جا کر بہت خوشی محسوس ہوئی کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم نے پتھروں کے زمانے کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ بجلی۔ پانی۔ صحت ۔تعلیم ۔سڑکیں کچھ بھی تو نہیں ہے وہاں۔ محرومیوں، ناانصافیوں، ڈر اور خوف کے گہرے سایوں میں بلوچوں کی حق خود ارادیت کی جنگ جا بجا سلگتی نظر آتی ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت کا شکریہ کہ 1971 میں بنگالیوں کی نسل کشی کی داستان کو بلوچ نسل کشی سےدوبارہ ذندہ کیا اور عام پاکستانیوں کو اپنی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھنے کا موقع فراہم کیا کہ پاکستانی فوج اور حکومت اپنی لالچ ، خودغرضی اور مفاد کے لئے بربریت کا طوفان اٹھانے میں قطعی دریغ نہیں کرتی، جا بجا ایف سی اور پولیس کی چیک پوسٹیں بلوچوں کے تحفظ سے ذیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے کالے کرتوتوں کی پردہ پوشی کرتی نظر آتی ہے۔ مستونگ، قلات، خضدار، پنجگور، ڈیرہ بگٹی، مکران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہان ماتم نہ ہو۔ کوئی اپنی پیارے کی انٹیلےجنس اداروں کے یاتھوں گمشدگی پر سراپا احتجاج تو کوئی اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں پر نوحہ کناں۔

اب سمجھ میں آیا کہ پاکستانی قوم کو ‘ڈھٹاَیئ” ورثہ میں ملی ہے۔ ماما قدیر کا لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کوئتہ تا کراچی اور کراچی تا اسلام آباد پیدل لانگ مارچ، توتک سے اجتعماعی قبروں کی دریافت، مکران، قلات، ڈیرابگٹی اور پنجگور آپریشن۔ سوشل میڈیا پر بلوچوں کے خلاف پاکستان کی ریاستی ایجنسیوں کی  بربریت پر چیختی چنگھاڑتی قلمیں، سپریم کورٹ میں موجود ایف سی کے بلوچوں کے خلاف گھنائونے جرائم کی ویڈیوز اور لطیف جوہر کی حالیہ تادم مرگ بھوت ہڑتال اور پاکستان کی حکومت اور فوج کا ان الزامات سے مسلسل انکار ڈھٹائی کی ایک ایسی مثال ہے جس سے ہمارے سر یقینناْ فخر سے بلند ہو گئے ہیں۔

بحیثیت باکستانی ہمیں فوج سے اتفاق ہے کہ ہر وہ بلوچ جو اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرے وہ قومی غدار ہے۔ بلوچوں کی سونا اگلتی زمینوں پر صرف  فوج اور وفاق کا حق ہے۔ پانی، بجلی، گیس، تعلیم، اور صحت کی جیسی تیسی ضرورت صرف پاکستانیوں کے لئے ہے، بلوچوں کو لئے نہیں۔ سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں بچھے سڑکوں کے جال بلوچستان میں اچھے نہیں لگتے۔ ہاں بلوچوں کو صرف اور صرف پسماندہ رکھنا چایئیے کیونکہ وہ اپنا جائز حق مانگتے ہیں۔ بلوچوں کو کچھ بھی مانگنے کا حق نہیں کیونکہ اس ملک کے ارباب اختیار نے1948  میں بلوچوں کے نصیب میں محرومی اور پسماندگی لکھ دی تھی۔ بلوچ قومی غدار ہے کیونکہ اسے اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کی پاسداری سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں۔ اور ہمیں بحیثیت پاکستانی اس بات پر فخر ہے کہ اپنی انا اور مفاد کی جنگ میں ہم ان روایات اور تہذیبوں کو بندوقوں، ٹینکوں، مارو پھینکو پالیسی اور نسل کشی جیسے حربوں سے کچلنے کے ماہر۔

 وفاقی و صوبائی حکومتیں بحی ہمارے لئے باعث فخر ہیں کہ جن کا مقصد صرف اقتدار ہے اور اس اقتدار کی آڑ میں سیندک، ریکوڈک اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں سے کروڑوں ڈالر جیب میں ڈالنے کی تمنا۔ ظاہری سی بات ہے کہ جب تک ایک بھی غیرت مند بلوچ ذندہ ہے، یہ تمنا حسرت ناکام سے ذیادہ کچھ بھی نہیں کہ غیرت مند بلوچ اپنی مٹی کی حفاظت کے لئے نہ کسی کے آگے جھکتا ہے نہ بکتا ہے۔ منیر احمد بلوچ، آغا عابد شاہ، فراز کریم، یونس فقیر، سنگت ثناء، علی شیر کرد، حمید شاہین، ذولفقار لانگو، عابد سلیم، طارق کریم اور ایسے ہے بیشمار بلوچ جو ریاستی دہشت گردی کے کا نشانہ بنے اور ایسے ہی بیشمار بلوچ جو ان اداروں کی غیر قانونی حراست میں ہیں، انہیں مارنے سے کچھ نہیں ہو گا کہ ان کی موت  جسم کی موت ہے نظریے کی نہیں۔ بحرحال پاکستان میں  اپنا حق مانگنے والے قومی غدار جبکہ حقوق پر قبضہ کرنے والے وطن کے رکھوالے اور ہم جیسے خاموش تماشائی  محب وطن پاکستانی کہلاتے ہے۔ پرہجوم لوگوں کے پاکستان میں جو ریاستی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا وہ اس ملک  اور اس کی افواج پہ فخر کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے؟