ہم اس دیس کے باسی ہیں ۔۔۔۔

 ???????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????….جس دیس کے کونے کونے میں
نفرت کی چنگاری سلگتی ہے۔۔
دل درد سے بوجھل بوجھل ہے
آنکھوں سے مایوسی ٹپکتی ہے۔۔۔
عزت، غیرت کے نام پہ عورت
یہاں روز مرتی، بکتی ہے۔۔۔
انصاف کے اونچے ایوانوں میں
ناانصافی راج کرتی ہے۔۔۔
اسلام کے ٹھیکیدارو بتائو۔۔۔۔ !!!
کیا شیعہ کا خون پانی ہے؟
ہندو، عیسائی انسان نہیں؟
بلوچ، سندھی، سرائیکی، پٹھان۔۔
قومیت کی آڑ میں مرتے رہیں گے؟
دہشت گردی، غنڈہ گردی، بھتہ خوری، قتل،اغواء
کیا موت یونہی رقص کرے گی؟
pak3جس ملک میں غربت راج کرے۔۔۔
تاریکیاں طواف کریں۔۔
جہالت کے گہرے سائے میں
وحشت ننگا ناچ کرے۔۔
اس ملک کے باسی ہونے میں
کیا فخر کریں، کیا ناز کریں؟
ثیم انور

Aside

بلوچستان ؛ تعلیم واحد امید ہے

ناخواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ، بلوچستان سرِ فہرست ہے۔ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 23 لاکھ بچے غربت، وسائل کی کمی، بنیادی ڈھانچے میں کمزوریاں اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایسے میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے ذریعے کم خرچ پرلڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ بالخصوص مکران ڈویژن جس نے عطاء شاد، مبارک قاضی، واجہ فقیر بلوچ جیسے لوگ پیدا کئے اور مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کا علم بلند کئے رکھا، اصولی طور پر تو ایسے لوگوں کو سراہنا چاہیے تھا مگر تعریف تو کجا، مکران کے ڈسٹرکٹ پنجگور میں قائم تمام پرائیوٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے خلاف ایک غیر معروف شدت پسند گروہ “تنظیم الاسلامی الفرقان” کی طرف سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ ان پمفلٹ میں انگریزی تعلیم کو حرام قرار دیا گیا ہے اور دھمکی دی گئی ہےکہ جو بھی تعلیمی ادارہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھے گا ، اسے اسلام کا دشمن سمجھا جائے گا۔ اس کی ساتھ ساتھ طالبات کو اسکول لیجانے والے ٹیکسی اور وین ڈرائیوروں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ان طالبات کو اسکول لے کر جائیں گے تو انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا، اس دھمکی کے بعد تمام اسکول بند کر دیے گئے۔ گو کہ ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اسکول دوبارہ کھول دیے گئے لیکن چند روز بعد شدت پسند تنظیم کی جانب سے اسکولوں پر حملوں اور ایک اسکول وین کو آگ لگا نے کے واقعات کے باعث پنجگور کے تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں اور ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے خلاف پنجگور میں ہزاروں افراد کا احتجاج جاری ہے۔

کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں،اتنی سخت سیکیورٹی کے میں ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نوٹس لینے کے سوا تاحال کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی اور سکولوں کی بندش کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں فاٹا اور سوات میں بھی لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ۔ ایسے واقعات کا بار بار جنم لینا حکومت کی طرف سے موئژر پالیسی کا فقدان ہے۔ پنجگور میں اسکولوں کی بندش کا باعث بننے والی تنظیم کیا ان بلوچ حریت پسندوں سے زیادہ “محب وطن” ہے جو ریاست اور وفاق کے استحصال کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں لاپتہ افراد اور ان کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچوں کےلئے اجتماعی قبروں، فوجی کاروائیوں اور مسخ شدہ لاشوں کے بعد اپنے بچوں کے ان پڑھ رہ جانے کےخدشہ کے بعد ریاست اور وفاق سے وفاداری کا عہد وہ بہت عرصہ تک نہیں نبھا سکیں گے۔ ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔ اس سے پہلے کے بلوچستان کے طلبہ کو مقامی “بوکوحرام” کے ہاتھوں یرغمال ہونا پڑے، حکومت کو بلوچوں کی آنے والی نسل کو محفوظ بنانا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس نسل کو تحفظ دینے سے پاکستان اور بلوچستان کے درمیان کمزور ہوتے ہوئے رشتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے

ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔

محترم ڈاکٹر عبدلالمالک صاحب،
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
جنابِ والا: ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر
پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے

کہ آپ ہم میں سے نہیں رہے۔

originally posted in laaltain.com on May 31, 2014

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے ایک گزارش

Image 

محترم ڈاکٹرمالک بلوچ صاحب 

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

عرض یہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں جہاں بلوچ عوام پہلے ہی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، جہاں ہر روز بلوچ لاپتہ افراد کی لاشیں گر رہی ہیں، لاپتہ بلوچوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی چیخیں گونج رہی ہیں،ملٹری آپریشن ہو رہے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں، ایک ڈر اور خوف پھیلا ہوا ہے، ایسے سنگین حالات میں ان کی بچی کھچی تعلیم کے ذرائع ختم کرنے کیلیے ایک نامعلوم گروہ کہیں سےاچانک پیدا ہو گیا ہے۔ پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے 15000 اہلکار تعینات ہیں،اتنے سخت سیکیورٹی کے حصار میں  ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے

 جنابِ والا:  ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور  میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں  نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔  اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے کہ آپ بھی اختیار کے بغیر اقتدار کی کرسی پر پراجمان رہنے والے ڈمی حکمران سے ذیادہ کچھ نہیں۔ اور مستقبل میں بلوچستان کے حالات میں آپ سے بہتری کی امید کو دفن کر دیں گے۔

                                                      شکریہ

Latif Johar .. an Icon of Bravery !!!

Since April 22, a young student Johar Latif has camped outside the Karachi Press Club. He is on a hunger strike. Johar demands the recovery of his leader, Zahid Baloch, who is the chairman of the Baloch Students Organization’s Azad faction (BSO-A). “I am on a hunger strike till death,” he says. “If I die, another member of the BSO-A will take my place.” – See more at: http://www.thefridaytimes.com/tft/hunger-strike/#sthash.cfLmdIlN.dpuf
Since April 22, a young student Johar Latif has camped outside the Karachi Press Club. He is on a hunger strike. Johar demands the recovery of his leader, Zahid Baloch, who is the chairman of the Baloch Students Organization’s Azad faction (BSO-A). “I am on a hunger strike till death,” he says. “If I die, another member of the BSO-A will take my place.” – See more at: http://www.thefridaytimes.com/tft/hunger-strike/#sthash.cfLmdIlN.dpuf

 

 

 

 

 

Since April 22, 2014 Latif Johar, 23 is on a hunger strike till death, camped outside Karachi Press Club, Pakistan. A young boy is demanding release of Zahid Baloch, Chairman BSO-A, taken away by law enforcement agencies of Pakistan. His health is deteriorating with each passing minute. His noble cause is to draw attention of Human right organization to stop Pakistan from committing serious human right violations in Balochistan. He deserves to live so are other Baloch who are in the illegal custody of law enforcement agencies.   

ImageLImageImageImageImageImageImageImageImageImageImageImageImage

پاکستان کا بلوچستان

Imageمجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہا کی میرا تعلق کویٹہ بلوچستان سے ہے۔ لیکن اس سے ذیادہ فخر ایک پاکستانی ہونے کا تھا۔ بالخصوص کچی عمر میں مطالعہ پاکستان میں اس صوبے کی دیو مالائی کہانیاں پڑھنے کے بعد جب شعور نے انگڑائی لی اور بلوچستان کے ننگے، خشک اور معدنیات سے بھرے ہوئے پہاڑ۔ صحرا۔ سمندر۔ بلوچوں کی روایات۔ تہذیب و تمدن اور ذندگی کو دیکھنے اور کھوجنے کا شوق ہوا تو میرا سر بحیثیت پاکستانی فخر سے مزید بلند ہو گیا۔ خاص طور پر اس صوبے میں فوج اور انٹیلے جنس کی کارکردگی نے پاکستانیت کے جذبے کو چار چاند لگا دیئے۔

 بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جا کر بہت خوشی محسوس ہوئی کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم نے پتھروں کے زمانے کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ بجلی۔ پانی۔ صحت ۔تعلیم ۔سڑکیں کچھ بھی تو نہیں ہے وہاں۔ محرومیوں، ناانصافیوں، ڈر اور خوف کے گہرے سایوں میں بلوچوں کی حق خود ارادیت کی جنگ جا بجا سلگتی نظر آتی ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت کا شکریہ کہ 1971 میں بنگالیوں کی نسل کشی کی داستان کو بلوچ نسل کشی سےدوبارہ ذندہ کیا اور عام پاکستانیوں کو اپنی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھنے کا موقع فراہم کیا کہ پاکستانی فوج اور حکومت اپنی لالچ ، خودغرضی اور مفاد کے لئے بربریت کا طوفان اٹھانے میں قطعی دریغ نہیں کرتی، جا بجا ایف سی اور پولیس کی چیک پوسٹیں بلوچوں کے تحفظ سے ذیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے کالے کرتوتوں کی پردہ پوشی کرتی نظر آتی ہے۔ مستونگ، قلات، خضدار، پنجگور، ڈیرہ بگٹی، مکران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہان ماتم نہ ہو۔ کوئی اپنی پیارے کی انٹیلےجنس اداروں کے یاتھوں گمشدگی پر سراپا احتجاج تو کوئی اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں پر نوحہ کناں۔

اب سمجھ میں آیا کہ پاکستانی قوم کو ‘ڈھٹاَیئ” ورثہ میں ملی ہے۔ ماما قدیر کا لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کوئتہ تا کراچی اور کراچی تا اسلام آباد پیدل لانگ مارچ، توتک سے اجتعماعی قبروں کی دریافت، مکران، قلات، ڈیرابگٹی اور پنجگور آپریشن۔ سوشل میڈیا پر بلوچوں کے خلاف پاکستان کی ریاستی ایجنسیوں کی  بربریت پر چیختی چنگھاڑتی قلمیں، سپریم کورٹ میں موجود ایف سی کے بلوچوں کے خلاف گھنائونے جرائم کی ویڈیوز اور لطیف جوہر کی حالیہ تادم مرگ بھوت ہڑتال اور پاکستان کی حکومت اور فوج کا ان الزامات سے مسلسل انکار ڈھٹائی کی ایک ایسی مثال ہے جس سے ہمارے سر یقینناْ فخر سے بلند ہو گئے ہیں۔

بحیثیت باکستانی ہمیں فوج سے اتفاق ہے کہ ہر وہ بلوچ جو اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرے وہ قومی غدار ہے۔ بلوچوں کی سونا اگلتی زمینوں پر صرف  فوج اور وفاق کا حق ہے۔ پانی، بجلی، گیس، تعلیم، اور صحت کی جیسی تیسی ضرورت صرف پاکستانیوں کے لئے ہے، بلوچوں کو لئے نہیں۔ سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں بچھے سڑکوں کے جال بلوچستان میں اچھے نہیں لگتے۔ ہاں بلوچوں کو صرف اور صرف پسماندہ رکھنا چایئیے کیونکہ وہ اپنا جائز حق مانگتے ہیں۔ بلوچوں کو کچھ بھی مانگنے کا حق نہیں کیونکہ اس ملک کے ارباب اختیار نے1948  میں بلوچوں کے نصیب میں محرومی اور پسماندگی لکھ دی تھی۔ بلوچ قومی غدار ہے کیونکہ اسے اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کی پاسداری سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں۔ اور ہمیں بحیثیت پاکستانی اس بات پر فخر ہے کہ اپنی انا اور مفاد کی جنگ میں ہم ان روایات اور تہذیبوں کو بندوقوں، ٹینکوں، مارو پھینکو پالیسی اور نسل کشی جیسے حربوں سے کچلنے کے ماہر۔

 وفاقی و صوبائی حکومتیں بحی ہمارے لئے باعث فخر ہیں کہ جن کا مقصد صرف اقتدار ہے اور اس اقتدار کی آڑ میں سیندک، ریکوڈک اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں سے کروڑوں ڈالر جیب میں ڈالنے کی تمنا۔ ظاہری سی بات ہے کہ جب تک ایک بھی غیرت مند بلوچ ذندہ ہے، یہ تمنا حسرت ناکام سے ذیادہ کچھ بھی نہیں کہ غیرت مند بلوچ اپنی مٹی کی حفاظت کے لئے نہ کسی کے آگے جھکتا ہے نہ بکتا ہے۔ منیر احمد بلوچ، آغا عابد شاہ، فراز کریم، یونس فقیر، سنگت ثناء، علی شیر کرد، حمید شاہین، ذولفقار لانگو، عابد سلیم، طارق کریم اور ایسے ہے بیشمار بلوچ جو ریاستی دہشت گردی کے کا نشانہ بنے اور ایسے ہی بیشمار بلوچ جو ان اداروں کی غیر قانونی حراست میں ہیں، انہیں مارنے سے کچھ نہیں ہو گا کہ ان کی موت  جسم کی موت ہے نظریے کی نہیں۔ بحرحال پاکستان میں  اپنا حق مانگنے والے قومی غدار جبکہ حقوق پر قبضہ کرنے والے وطن کے رکھوالے اور ہم جیسے خاموش تماشائی  محب وطن پاکستانی کہلاتے ہے۔ پرہجوم لوگوں کے پاکستان میں جو ریاستی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا وہ اس ملک  اور اس کی افواج پہ فخر کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے؟

Humanity is Calling

Humanity is calling!! Image

Life every man holds dear; but the dear man holds honor far more precious dear than life. William Shakespeare

This is exactly what Latif Johar is doing rights now by observing “Hunger Strike till Death” against the illegal abduction of Zahid Baloch, Chairman of BSO-Azad by Pakistani Law Enforcement Agencies on March 18, 2014 from Quetta. His abduction is witnessed by Kareema Baloch and other BSO leaders who were coming out of a meeting when they were stopped by Frontier Corps personnel. They took him away after a few minutes of on-spot interrogation.

Though issue of Baloch Missing Persons has been registered in the Supreme Court of Pakistan but nothing has been done so far. 2000 km long march from Quetta to Karachi and Karachi to Islamabad by the families of Baloch Missing Persons failed to get attention of the Pakistan Government and media. Even the campaign on social media against the illegal abduction and extra judicial killing by Pakistani law enforcement agencies has only bring the awareness in Pakistan community but no practical steps have been taken to ensure the safety of Baloch Missing Persons. This clearly indicates the power and dominancy of Pakistan security agencies over the government, judiciary and media.

ImageOn January 25, 2014 discovery of mass graves from Tutak, Khuzdar with 103 decomposed bodies are claimed to be of the Baloch Missing Persons; Government officials confirmed that the bullet-riddled bodies have been dumped in unmarked graves — many of them considered to be mass graves exposes the gross human rights abuses perpetrated by the security forces over the years in a bid to suppress a popular uprising against the government. Discovery of mass graves is still a mystery as media coverage was, and is prohibited in this regard.

According to the Commission on the Inquiry of Enforced Disappearances, the total number of cases currently stands at 621. However this figure is contested by Nasrullah Baloch, the chairperson of the Voice for Baloch Missing Persons. According to him 23,000 is the number of registered cases. From this, a whole 14,000 came during the current government’s tenure.

To mention here, Pakistan’s well known journalist Hamid Mir who received 6 bullets on April 19, 2014 – in his recent statement held ISI responsible of the attack for covering Baloch Missing Person’s long march. According to The Centre for Research and Security Studies (CRSS), at least 22 journalists have been killed in the province during the past four years.Image

In this scenario, Baloch are completely disappointed with Pakistan government, judiciary, and media. The powerful law enforcement agencies only reply to these human right violations in Balochistan is more abduction and more killing. Discussing Balochistan issue in Pakistan means calling your death!

ImageAs Pakistan has failed miserably in 64 years to resolve Balochistan conflict, therefore under such circumstances, the only hope of justice for Baloch is The Office of the High Commissioner for Human Rights, Amnesty International, Human Rights Watch, Special Adviser on the Prevention of Genocide,and other human right organization to step in and take notice of the massacre in Balochistan. Disheartened from Pakistan, Baloch needs and have right to live. They are human too and human right organizations must intervene and prove that they do exist to save humanity.

بات توسچ ہے مگر۔۔۔

ڈرون آیا۔۔ بیت اللہ محسود مارا گیا اور ساتھ ھی مذاکرات کا نومولود بچہ بھی مر گیا۔ پھر کون شہید، کون ہلاک کی بحث، فوج کے مورال کی باتیں شروع ہو گئیں۔آس پاس اور کیا ہو رہا ہے،کچھ نہیں معلوم۔

پچھلےدنوںچند دوستوںکے ساتھ بیٹھنے کااتفاق ہوا۔ ڈرون حملوں سے ملالہ تک۔فوج سے شہادت تک سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی۔ اچانک میں نے پوچھا کہ کوئٹہ سے شروع ہونے والا لانگ مارچ کہاں تک پہنچا؟ کچھ دوستوں نے پوچھا کہ کونسا لانگ مارچ؟ جبکہ کچھ نے کہا،ہاں اس بارےمیں سنا تو ہے لیکن یہ نہیں معلوم کےکہاں تک پہنچا ہے، غالباٌ مسنگ پرسنس کے حوالے سے ہے۔

اس قوم کاالمیہ یہ ہے کہ یہ صرف وہ دیکھتی، سنتی اور بولتی ہے جو ہماری فوج اور حکمران چاہتے ہیں۔ اور اس کا تمام تر کریڈٹ پاکستانی میڈیا کو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا آذاد میڈیا اپنے ذاتی فائدے اور پیسے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتا ہے۔۔ چونکہ میرا تعلق باکستانی میڈیا سے ہے اس لئے مجھے یہ کہنے میں عار محسوس نہیں ہوتی کہ پاکستان کی جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا فوج کی غلام ہے۔ بلخصوص بلوچستان میں ہونے والی نا انصافیاں،ماورائے عدالت قتل، اغوا برائے تاوان،مسخ شدہ لاشیں صرف اس وجہ سے عام پاکستانیوں تک نہیں پہنچتیں کیونکہ فوج کی طرف سے میڈیا پہ پابندی عائد ہے کہ بلوچستان اور بالخصوص بلوچوں سے متعلق کوئی بھی خبر منظر عام پر نہیں آنی چاہیے۔ اس کا مطلب توپھر یہ ہو سکتا ہے کہ بلوچوں پر ہونے والے ظلم میں براہ راست فوج ملوث ہے اور ایف سی کےکندھےپر بندوق رکھ کر بلوچستان بدامنی ہماری اسٹیبلشمنٹ کا ہی کارنامہ ہے۔ میڈیا پریا تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بلوچستان کے وزیر اعلی عبدالمالک ناراض بلوچوں کو مزاکرات کی دعوت دینےہوئے نظر آتے ہیں یا ایف سی اور ایجنسیاں تردیدی بیانات۔۔مگر ناراض بلوچوںاور انکے مسائل کوعوام کے سامنے پیش نہیںکیا جاتا جسکی تازہ ترین مثال کوئٹہ تا کراچی لانگ مارچ ہے۔

ستائیس اکتوبر کو چند افراد پر مشتمل قافلہ جس میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں، پیدل سفر کرتا ہوا کوئٹہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا لیکن کسی بھی پاکستانی میڈیا نے اس کی خاطر خواہ خواہ کوریج نہیں کی۔ آخر یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی ایسی کیامجبوری ہے جو کوئٹہ سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ کر رہے ہیں؟ ان کے ھاتھوں میں کس کی تصویریں ہیں؟ اور یہ کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ زخم خوردہ بلوچ خاندان ہیں جن کے پیاروں کو اچانک غائب کر دیا گیا اور یہ لوگ ان کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کبھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ،کبھی کراچی پریس کلب کے سامنے، کبھی سپریم کورٹ کے سامنے ،، احتجاج، ریلیاں،مظاہرے، کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے لیکن ہمارے حکمرانوں کی بے حسی جوں کی توں برقرار رہی۔ اس ناکامی کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو غائب کرنے میں کسی اور کا نہیں ایف سی، فوج اور ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ۲۰۰۵ کے بعد –ڈمپ اینڈ کل- پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلوچوں کو غائب کرنے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرمسنس کے چئیرمین ماما قدیربلوچ کاکہنا ہے کہ اب تک ۲۳۵۲ بلوچ لاپنہ ہو چکے ہیں۔ جبکہ ذیادہ تر گمشدہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل سکیں ہیں۔

ہمارے نام نہاد حکمرانوں اور میڈیا نے عوام کو یہ تو بتا دیا کہ کاروائیاں علیحدگی بسند بلوچوں کے خلاف ہیں مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ بلوچ بہن بھائی پاکستان سے الگ کیوں ہونا چاہتے ہیں۔لیکن اس سے قطع نظر کون سا ایسا قانون ہے جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کبھی بھی، کنہیں سے بھی،کسی کو بھی اٹھا کرلے جائیں، ان کے خاندانوں کو درد اور انتظار کی سولی پر چڑھا دیں اور بھر ایک دن اس کی مسخ شدہ لاش کو کسی ویرانے میں بھینک دیں۔ اور اگر کوئی صدائے احتجاج بلند کرے تو ان کی زبانوں پر قفل لگا دیے جائیں۔ اگر ایف سی اور فوج اغوا اور تشدد ذدہ لاشیں پھینکنے میں ملوث نہیں ہے تو پھر پاکستانی میڈیا کو بلوچستان کے مسائل پر بولنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟ اگر ملالہ اور نبیلہ دنیا بھرکے ایوانوں میں لب کشائی کر سکتیں ہیں تو بھائی کی تصویر اٹھائے فرزانہ میڈیا کے سامنے کیوں نہیں آسکتی؟

ملالہ : قوم کا غرور کہ اس نے طالبان کے خلاف آواز اٹھائی

عافیہ : قوم کی بیٹی کہ امریکی عقوبت خانے میں صعوبتیں اٹھا رہی ہے

نبیلہ : قوم کا فخر کہ ڈرون حملوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے

لیکن فرزانہ نہ قوم کی بیٹی ہے،نہ فخر اور نہ ہی غرور کیونکہ وہ آواز اٹھا رہی ہے اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف، حکمرانوں کی بے حسی کے خلاف، اس بھانک چہرے کے خلاف جو پاک فوج ذندہ باد کے کھوکھلے نعرے لگواکر اپنا بھرم قائم رکھے ہوئے ہے۔

 

کوئٹہ سے کراچی تک کا پیدل سفر طے کرنے والے صرف انصاف مانگتے ہیں۔ ریاستی اغوا کے خلاف، مسخ شدہ لاشوں کے خلاف۔ ان لوگوں کا ایک ہی تقاضا ہے کہ اگر ان گمشدہ لوگوں کا کوئی قصور ہے تو انہیں عدالتوں میں لایاجائے، ان پر مقدمات چلائیں جائیں لیکن راتوں رات انہیں غائب کر کے، تشدد کا نشانہ بناکہ ان کی لاشوں کو ویرانوں اور بیابانوں میں پھینکنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

 

مانا کے بلوچستان کا معاملہ حساس نوعیت کا ہےلیکن کیا معاملات کوحل کرنےکا ایجنسیوں کا طریقہ کار صحیح یے؟ ایک طرف صوبائی و وفاقی حکومت مزاکرات کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف لاشیں پھینکیں جا رہی ہیں۔۔۔ کیا لاشوں پر مزاکرات ممکن ہیں؟ اور کیا اس طرح بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے؟ اگر فوج کے سائے تلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا اسی طرح پروان چڑھتا رہا تو خوشحال اور پر امن پاکستان کا خواب، صرف خواب ہی رہ جائے گا۔

پاک سر زمین شاد باد۔۔۔۔۔۔؟

Image

ٹن ٹن ٹن۔۔۔ صبح سکول کی گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی اسمبلی ہال میں قطار در قطار یونیفارم پہنے بچے رنگ برنگی آوازوں میں لہک لہک کر ’پاک سر زمین شاد باد‘ پڑھتے نظر آتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کے اس کے معنی کیا ہیں․ یہ راگ الاپنا لازمی ٹھہرا۔ پاک فوج ذندہ باد․ پاکستان پائندہ باد۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر، میری جان پاکستان، ہم ذندہ قوم ہیں، سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان۔۔ یہ ہے میرا پاکستان اور نا جانے ایسے کئی اور گانے پڑھا پڑھا کر، سنا سنا کر کچے ذہنوں کو پاکستانیت کی لازوال محبت کے سائے تلے پروان چڑھایا گیا لیکن پھر بھی پاکستانیت کا وجود، پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ تو پھر یہ کیا ماجرا ہے کہ ہمیں ایک کرنے والا ہر نعرہ تقسیم در تقسیم کئے چلا جا ریا ہے۔

اس دیس کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نے ہمیں قوم کا مطلب تو سمجھا دیا لیکن قوم بننا سکھانا بھول گئے۔  چودہ اگست کو یوم پاکستان کا جشن منانا تو سکھلا دیا مگر پاکستان بننے کے در پردہ اصل حقائق و محرکات کو بزرگوں کی عظیم قربانیوں تلے دفن کر دیا۔ محمد علی جناح کو قائد اعظم اور بابائے قوم کے منصب پر تو فائز کر دیا لیکن ان کے سیکولر پاکستان کے نظریے کو اسلام کا لبادہ اوڑھا کر زیارت ریذیڈنسی میں ان کے ساتھ مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ ھمیں یہ بھی بتا دیا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا مگر یہ نہیں بتایا کہ کونسا اسلام۔۔۔ شیعہ کا اسلام، سنی کا اسلام، دیوبندی کا اسلام، اہلحدیث کا اسلام، امریکہ کا اسلام، سعودی عرب کا اسلام یا طالبان کا اسلام؟

اس ملک کے سبز ہلالی پرچم کا احوال بھی مختلف نہیں۔ پرچم کا سبز رنگ جو مسلمانوں کی اکثریت کی نشاندہی کرتا ہے درحقیقت اس دھرتی پر اس کا رنگ بیگناہ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہے۔ جسے پاکستان کی تیار کردہ طالبان کی کھیپ جوہمارے منہ کا ایسا نوالہ بن گئے ہیں  جسے نا نگلا جائے نا اگلاجائے اسلام کے نام پرمسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتی نطر آتی ہے۔ صرف اس سال کے پہلے پینتالیس دنوں میں چھیالیس دہشت گردی کے واقعات میں تین سو اکسٹھ افراد لقمہ اجل بنے۔ کبھی سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات اور پیسے کی ہوس میں ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ کبھی شیعہ ہونے کی پاداش میں کربلا کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور کبھی بلوچ کو قومی غدار کا ٹھپہ لگا کر نسل کشی کی جاتی ہے۔  پرچم کا سفید رنگ جو اقلیتوں کا ترجمان ہے درحقیقت ہمارے سفید خون کا نشان ہے۔ اس ملک میں ہندو اور عیسائی کا مطلب بھنگی ہے جو یمارا گند صاف کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں لاڑکانہ میں ہندوئوں کے ہولی کے تہوار پر ان کے مندر کو آگ لگا کر ہم نے ُپاکستان میں آزادی مذہب کے دعووں کی قلعی خود کھول دی۔

پرچم پر چاند اور ستارا جسے ترقی، روشنی اور آگہی سے تشبیح دی جاتی ہے وہ ایک ایسی ترقی ہے جس میں نہ بجلی ہے نہ گیس نہ پانی۔۔ تعلیم، صحت، روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات چاند پہ بیٹھی اس بڑھیا کی مانند ہیں جسے تصور کر کے ہم روز سو جاتے ہیں اور دن بھر اس کی لئے دھکے کھاتے ہیں۔

اکیسویں صدی کے پاکستان میں نہ ہمارے دلوں میں احساس رہا نہ جذبات۔۔ سچ، سچ نہ رہا، جھوٹ کے معنی بدل گئے۔ سچ جھوٹ بن گیا اور جھوٹ سچ۔۔۔ اب یہاں تم، تم ہو اور میں، میں ہوں۔۔ یہی وجہ ہے کہ اگر شیعہ اپنے پیاروں کی لاشیں دفنانے کی بجائے انہیں روڈ پر رکھ کرصدائے احتجاج بلند کریں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ملک کے کسی کونے میں اگر کوئی ٹارگٹ کلنگ اور دھماکے میں مر جائیں تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے بلوچوں کے لواحقین کا قافلہ کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد پیدل لانگ مارچ کریں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔

پاک سر زمین اب نا ہی پاک ہے، نا ہی شاد ہے اور نا ہی آباد ہے

پاک سر زمین شاد باد اب پاک سر زمین برباد سے ذیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔

Image

In Search of Justice

27

Balochistan is the most backward province of Pakistan. Presently it is becoming a place in the world where the largest number of enforced disappearances is taking place, also recognized by the Supreme Court of Pakistan and other Higher Courts. Unfortunately, regardless of the Baloch Missing Persons’ case hearing in the Supreme Court of Pakistan “Human Right Case no. 29833-K” for the past seven years has failed miserably to take any effective step to stop the practice of enforced disappearances or even brings down its number. The estimated figure of enforced disappearance of Baloch is between 10000 and 15000.

In response to the enforced disappearances a long march was held by the families of Baloch missing persons from Quetta to Karachi covering 730 Kilometers and later from Karachi to Islamabad covering another 1468 Kilometers on foot. Despite of death threats, Baloch men, women and children walked 2000 Kilometers in search of justice. But instead of providing justice, the Supreme Court of Pakistan discharged names of many Baloch missing person from its official list.

On the other hand Pakistan’s reluctance to sign the International Convention for the Protection of All Persons from Enforced Disappearances clearly indicates the dominance of Pakistan Armed Forces and law enforcement agencies over the government. Pakistan law enforcement agencies DO NOT allow government to take any step to eradicate the practice of enforced disappearances, especially in Balochistan. That is why no government has ever held any serious debate, in the Parliament, to address this issue.

Baloch people hopeless from the Pakistan’s government and judiciary, are now calling upon the Working Group on Enforced Disappearances of the United Nations and other international human right organizations and communities to intervene and take action against serious human right violation in Balochistan by Pakistani Law Enforcement Agencies. Action against such crime by the international community is a dire need of the time or otherwise delay or failure in this regards will lead to more disappearances and killing of Baloch.  It’s also worth mentioning here that families of Baloch missing persons warned that the next long march would be from Pakistan to Geneva.