پاکستان کا بلوچستان

Imageمجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہا کی میرا تعلق کویٹہ بلوچستان سے ہے۔ لیکن اس سے ذیادہ فخر ایک پاکستانی ہونے کا تھا۔ بالخصوص کچی عمر میں مطالعہ پاکستان میں اس صوبے کی دیو مالائی کہانیاں پڑھنے کے بعد جب شعور نے انگڑائی لی اور بلوچستان کے ننگے، خشک اور معدنیات سے بھرے ہوئے پہاڑ۔ صحرا۔ سمندر۔ بلوچوں کی روایات۔ تہذیب و تمدن اور ذندگی کو دیکھنے اور کھوجنے کا شوق ہوا تو میرا سر بحیثیت پاکستانی فخر سے مزید بلند ہو گیا۔ خاص طور پر اس صوبے میں فوج اور انٹیلے جنس کی کارکردگی نے پاکستانیت کے جذبے کو چار چاند لگا دیئے۔

 بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جا کر بہت خوشی محسوس ہوئی کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم نے پتھروں کے زمانے کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ بجلی۔ پانی۔ صحت ۔تعلیم ۔سڑکیں کچھ بھی تو نہیں ہے وہاں۔ محرومیوں، ناانصافیوں، ڈر اور خوف کے گہرے سایوں میں بلوچوں کی حق خود ارادیت کی جنگ جا بجا سلگتی نظر آتی ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت کا شکریہ کہ 1971 میں بنگالیوں کی نسل کشی کی داستان کو بلوچ نسل کشی سےدوبارہ ذندہ کیا اور عام پاکستانیوں کو اپنی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھنے کا موقع فراہم کیا کہ پاکستانی فوج اور حکومت اپنی لالچ ، خودغرضی اور مفاد کے لئے بربریت کا طوفان اٹھانے میں قطعی دریغ نہیں کرتی، جا بجا ایف سی اور پولیس کی چیک پوسٹیں بلوچوں کے تحفظ سے ذیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے کالے کرتوتوں کی پردہ پوشی کرتی نظر آتی ہے۔ مستونگ، قلات، خضدار، پنجگور، ڈیرہ بگٹی، مکران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہان ماتم نہ ہو۔ کوئی اپنی پیارے کی انٹیلےجنس اداروں کے یاتھوں گمشدگی پر سراپا احتجاج تو کوئی اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں پر نوحہ کناں۔

اب سمجھ میں آیا کہ پاکستانی قوم کو ‘ڈھٹاَیئ” ورثہ میں ملی ہے۔ ماما قدیر کا لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کوئتہ تا کراچی اور کراچی تا اسلام آباد پیدل لانگ مارچ، توتک سے اجتعماعی قبروں کی دریافت، مکران، قلات، ڈیرابگٹی اور پنجگور آپریشن۔ سوشل میڈیا پر بلوچوں کے خلاف پاکستان کی ریاستی ایجنسیوں کی  بربریت پر چیختی چنگھاڑتی قلمیں، سپریم کورٹ میں موجود ایف سی کے بلوچوں کے خلاف گھنائونے جرائم کی ویڈیوز اور لطیف جوہر کی حالیہ تادم مرگ بھوت ہڑتال اور پاکستان کی حکومت اور فوج کا ان الزامات سے مسلسل انکار ڈھٹائی کی ایک ایسی مثال ہے جس سے ہمارے سر یقینناْ فخر سے بلند ہو گئے ہیں۔

بحیثیت باکستانی ہمیں فوج سے اتفاق ہے کہ ہر وہ بلوچ جو اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرے وہ قومی غدار ہے۔ بلوچوں کی سونا اگلتی زمینوں پر صرف  فوج اور وفاق کا حق ہے۔ پانی، بجلی، گیس، تعلیم، اور صحت کی جیسی تیسی ضرورت صرف پاکستانیوں کے لئے ہے، بلوچوں کو لئے نہیں۔ سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں بچھے سڑکوں کے جال بلوچستان میں اچھے نہیں لگتے۔ ہاں بلوچوں کو صرف اور صرف پسماندہ رکھنا چایئیے کیونکہ وہ اپنا جائز حق مانگتے ہیں۔ بلوچوں کو کچھ بھی مانگنے کا حق نہیں کیونکہ اس ملک کے ارباب اختیار نے1948  میں بلوچوں کے نصیب میں محرومی اور پسماندگی لکھ دی تھی۔ بلوچ قومی غدار ہے کیونکہ اسے اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کی پاسداری سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں۔ اور ہمیں بحیثیت پاکستانی اس بات پر فخر ہے کہ اپنی انا اور مفاد کی جنگ میں ہم ان روایات اور تہذیبوں کو بندوقوں، ٹینکوں، مارو پھینکو پالیسی اور نسل کشی جیسے حربوں سے کچلنے کے ماہر۔

 وفاقی و صوبائی حکومتیں بحی ہمارے لئے باعث فخر ہیں کہ جن کا مقصد صرف اقتدار ہے اور اس اقتدار کی آڑ میں سیندک، ریکوڈک اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں سے کروڑوں ڈالر جیب میں ڈالنے کی تمنا۔ ظاہری سی بات ہے کہ جب تک ایک بھی غیرت مند بلوچ ذندہ ہے، یہ تمنا حسرت ناکام سے ذیادہ کچھ بھی نہیں کہ غیرت مند بلوچ اپنی مٹی کی حفاظت کے لئے نہ کسی کے آگے جھکتا ہے نہ بکتا ہے۔ منیر احمد بلوچ، آغا عابد شاہ، فراز کریم، یونس فقیر، سنگت ثناء، علی شیر کرد، حمید شاہین، ذولفقار لانگو، عابد سلیم، طارق کریم اور ایسے ہے بیشمار بلوچ جو ریاستی دہشت گردی کے کا نشانہ بنے اور ایسے ہی بیشمار بلوچ جو ان اداروں کی غیر قانونی حراست میں ہیں، انہیں مارنے سے کچھ نہیں ہو گا کہ ان کی موت  جسم کی موت ہے نظریے کی نہیں۔ بحرحال پاکستان میں  اپنا حق مانگنے والے قومی غدار جبکہ حقوق پر قبضہ کرنے والے وطن کے رکھوالے اور ہم جیسے خاموش تماشائی  محب وطن پاکستانی کہلاتے ہے۔ پرہجوم لوگوں کے پاکستان میں جو ریاستی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا وہ اس ملک  اور اس کی افواج پہ فخر کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے؟

4 thoughts on “پاکستان کا بلوچستان

  1. The image in you blog is pretty racist towards Punjabis; not all soliders in the Pakistani army Punjabis, there are Pashtuns and Muhajirs too but hating against Punjabis only is really racist far from the truth.

  2. These are fake stories. Pakistan army presence in Baluchistan for just to establish Peace. Few Non State actor trying to divide Baluchistan and Pakistan. But real Balochi aware of It and they are supporting Pakistan Army and FC.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s