بات توسچ ہے مگر۔۔۔

ڈرون آیا۔۔ بیت اللہ محسود مارا گیا اور ساتھ ھی مذاکرات کا نومولود بچہ بھی مر گیا۔ پھر کون شہید، کون ہلاک کی بحث، فوج کے مورال کی باتیں شروع ہو گئیں۔آس پاس اور کیا ہو رہا ہے،کچھ نہیں معلوم۔

پچھلےدنوںچند دوستوںکے ساتھ بیٹھنے کااتفاق ہوا۔ ڈرون حملوں سے ملالہ تک۔فوج سے شہادت تک سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی۔ اچانک میں نے پوچھا کہ کوئٹہ سے شروع ہونے والا لانگ مارچ کہاں تک پہنچا؟ کچھ دوستوں نے پوچھا کہ کونسا لانگ مارچ؟ جبکہ کچھ نے کہا،ہاں اس بارےمیں سنا تو ہے لیکن یہ نہیں معلوم کےکہاں تک پہنچا ہے، غالباٌ مسنگ پرسنس کے حوالے سے ہے۔

اس قوم کاالمیہ یہ ہے کہ یہ صرف وہ دیکھتی، سنتی اور بولتی ہے جو ہماری فوج اور حکمران چاہتے ہیں۔ اور اس کا تمام تر کریڈٹ پاکستانی میڈیا کو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا آذاد میڈیا اپنے ذاتی فائدے اور پیسے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتا ہے۔۔ چونکہ میرا تعلق باکستانی میڈیا سے ہے اس لئے مجھے یہ کہنے میں عار محسوس نہیں ہوتی کہ پاکستان کی جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا فوج کی غلام ہے۔ بلخصوص بلوچستان میں ہونے والی نا انصافیاں،ماورائے عدالت قتل، اغوا برائے تاوان،مسخ شدہ لاشیں صرف اس وجہ سے عام پاکستانیوں تک نہیں پہنچتیں کیونکہ فوج کی طرف سے میڈیا پہ پابندی عائد ہے کہ بلوچستان اور بالخصوص بلوچوں سے متعلق کوئی بھی خبر منظر عام پر نہیں آنی چاہیے۔ اس کا مطلب توپھر یہ ہو سکتا ہے کہ بلوچوں پر ہونے والے ظلم میں براہ راست فوج ملوث ہے اور ایف سی کےکندھےپر بندوق رکھ کر بلوچستان بدامنی ہماری اسٹیبلشمنٹ کا ہی کارنامہ ہے۔ میڈیا پریا تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بلوچستان کے وزیر اعلی عبدالمالک ناراض بلوچوں کو مزاکرات کی دعوت دینےہوئے نظر آتے ہیں یا ایف سی اور ایجنسیاں تردیدی بیانات۔۔مگر ناراض بلوچوںاور انکے مسائل کوعوام کے سامنے پیش نہیںکیا جاتا جسکی تازہ ترین مثال کوئٹہ تا کراچی لانگ مارچ ہے۔

ستائیس اکتوبر کو چند افراد پر مشتمل قافلہ جس میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں، پیدل سفر کرتا ہوا کوئٹہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا لیکن کسی بھی پاکستانی میڈیا نے اس کی خاطر خواہ خواہ کوریج نہیں کی۔ آخر یہ کون لوگ ہیں؟ ان کی ایسی کیامجبوری ہے جو کوئٹہ سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ کر رہے ہیں؟ ان کے ھاتھوں میں کس کی تصویریں ہیں؟ اور یہ کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ زخم خوردہ بلوچ خاندان ہیں جن کے پیاروں کو اچانک غائب کر دیا گیا اور یہ لوگ ان کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کبھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ،کبھی کراچی پریس کلب کے سامنے، کبھی سپریم کورٹ کے سامنے ،، احتجاج، ریلیاں،مظاہرے، کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے لیکن ہمارے حکمرانوں کی بے حسی جوں کی توں برقرار رہی۔ اس ناکامی کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو غائب کرنے میں کسی اور کا نہیں ایف سی، فوج اور ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ۲۰۰۵ کے بعد –ڈمپ اینڈ کل- پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلوچوں کو غائب کرنے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرمسنس کے چئیرمین ماما قدیربلوچ کاکہنا ہے کہ اب تک ۲۳۵۲ بلوچ لاپنہ ہو چکے ہیں۔ جبکہ ذیادہ تر گمشدہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل سکیں ہیں۔

ہمارے نام نہاد حکمرانوں اور میڈیا نے عوام کو یہ تو بتا دیا کہ کاروائیاں علیحدگی بسند بلوچوں کے خلاف ہیں مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ بلوچ بہن بھائی پاکستان سے الگ کیوں ہونا چاہتے ہیں۔لیکن اس سے قطع نظر کون سا ایسا قانون ہے جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کبھی بھی، کنہیں سے بھی،کسی کو بھی اٹھا کرلے جائیں، ان کے خاندانوں کو درد اور انتظار کی سولی پر چڑھا دیں اور بھر ایک دن اس کی مسخ شدہ لاش کو کسی ویرانے میں بھینک دیں۔ اور اگر کوئی صدائے احتجاج بلند کرے تو ان کی زبانوں پر قفل لگا دیے جائیں۔ اگر ایف سی اور فوج اغوا اور تشدد ذدہ لاشیں پھینکنے میں ملوث نہیں ہے تو پھر پاکستانی میڈیا کو بلوچستان کے مسائل پر بولنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟ اگر ملالہ اور نبیلہ دنیا بھرکے ایوانوں میں لب کشائی کر سکتیں ہیں تو بھائی کی تصویر اٹھائے فرزانہ میڈیا کے سامنے کیوں نہیں آسکتی؟

ملالہ : قوم کا غرور کہ اس نے طالبان کے خلاف آواز اٹھائی

عافیہ : قوم کی بیٹی کہ امریکی عقوبت خانے میں صعوبتیں اٹھا رہی ہے

نبیلہ : قوم کا فخر کہ ڈرون حملوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے

لیکن فرزانہ نہ قوم کی بیٹی ہے،نہ فخر اور نہ ہی غرور کیونکہ وہ آواز اٹھا رہی ہے اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف، حکمرانوں کی بے حسی کے خلاف، اس بھانک چہرے کے خلاف جو پاک فوج ذندہ باد کے کھوکھلے نعرے لگواکر اپنا بھرم قائم رکھے ہوئے ہے۔

 

کوئٹہ سے کراچی تک کا پیدل سفر طے کرنے والے صرف انصاف مانگتے ہیں۔ ریاستی اغوا کے خلاف، مسخ شدہ لاشوں کے خلاف۔ ان لوگوں کا ایک ہی تقاضا ہے کہ اگر ان گمشدہ لوگوں کا کوئی قصور ہے تو انہیں عدالتوں میں لایاجائے، ان پر مقدمات چلائیں جائیں لیکن راتوں رات انہیں غائب کر کے، تشدد کا نشانہ بناکہ ان کی لاشوں کو ویرانوں اور بیابانوں میں پھینکنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

 

مانا کے بلوچستان کا معاملہ حساس نوعیت کا ہےلیکن کیا معاملات کوحل کرنےکا ایجنسیوں کا طریقہ کار صحیح یے؟ ایک طرف صوبائی و وفاقی حکومت مزاکرات کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف لاشیں پھینکیں جا رہی ہیں۔۔۔ کیا لاشوں پر مزاکرات ممکن ہیں؟ اور کیا اس طرح بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے؟ اگر فوج کے سائے تلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا اسی طرح پروان چڑھتا رہا تو خوشحال اور پر امن پاکستان کا خواب، صرف خواب ہی رہ جائے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s