پاک سر زمین شاد باد۔۔۔۔۔۔؟

Image

ٹن ٹن ٹن۔۔۔ صبح سکول کی گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی اسمبلی ہال میں قطار در قطار یونیفارم پہنے بچے رنگ برنگی آوازوں میں لہک لہک کر ’پاک سر زمین شاد باد‘ پڑھتے نظر آتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کے اس کے معنی کیا ہیں․ یہ راگ الاپنا لازمی ٹھہرا۔ پاک فوج ذندہ باد․ پاکستان پائندہ باد۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر، میری جان پاکستان، ہم ذندہ قوم ہیں، سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان۔۔ یہ ہے میرا پاکستان اور نا جانے ایسے کئی اور گانے پڑھا پڑھا کر، سنا سنا کر کچے ذہنوں کو پاکستانیت کی لازوال محبت کے سائے تلے پروان چڑھایا گیا لیکن پھر بھی پاکستانیت کا وجود، پاکستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ تو پھر یہ کیا ماجرا ہے کہ ہمیں ایک کرنے والا ہر نعرہ تقسیم در تقسیم کئے چلا جا ریا ہے۔

اس دیس کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نے ہمیں قوم کا مطلب تو سمجھا دیا لیکن قوم بننا سکھانا بھول گئے۔  چودہ اگست کو یوم پاکستان کا جشن منانا تو سکھلا دیا مگر پاکستان بننے کے در پردہ اصل حقائق و محرکات کو بزرگوں کی عظیم قربانیوں تلے دفن کر دیا۔ محمد علی جناح کو قائد اعظم اور بابائے قوم کے منصب پر تو فائز کر دیا لیکن ان کے سیکولر پاکستان کے نظریے کو اسلام کا لبادہ اوڑھا کر زیارت ریذیڈنسی میں ان کے ساتھ مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ ھمیں یہ بھی بتا دیا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا مگر یہ نہیں بتایا کہ کونسا اسلام۔۔۔ شیعہ کا اسلام، سنی کا اسلام، دیوبندی کا اسلام، اہلحدیث کا اسلام، امریکہ کا اسلام، سعودی عرب کا اسلام یا طالبان کا اسلام؟

اس ملک کے سبز ہلالی پرچم کا احوال بھی مختلف نہیں۔ پرچم کا سبز رنگ جو مسلمانوں کی اکثریت کی نشاندہی کرتا ہے درحقیقت اس دھرتی پر اس کا رنگ بیگناہ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہے۔ جسے پاکستان کی تیار کردہ طالبان کی کھیپ جوہمارے منہ کا ایسا نوالہ بن گئے ہیں  جسے نا نگلا جائے نا اگلاجائے اسلام کے نام پرمسلمانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتی نطر آتی ہے۔ صرف اس سال کے پہلے پینتالیس دنوں میں چھیالیس دہشت گردی کے واقعات میں تین سو اکسٹھ افراد لقمہ اجل بنے۔ کبھی سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات اور پیسے کی ہوس میں ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ کبھی شیعہ ہونے کی پاداش میں کربلا کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور کبھی بلوچ کو قومی غدار کا ٹھپہ لگا کر نسل کشی کی جاتی ہے۔  پرچم کا سفید رنگ جو اقلیتوں کا ترجمان ہے درحقیقت ہمارے سفید خون کا نشان ہے۔ اس ملک میں ہندو اور عیسائی کا مطلب بھنگی ہے جو یمارا گند صاف کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں لاڑکانہ میں ہندوئوں کے ہولی کے تہوار پر ان کے مندر کو آگ لگا کر ہم نے ُپاکستان میں آزادی مذہب کے دعووں کی قلعی خود کھول دی۔

پرچم پر چاند اور ستارا جسے ترقی، روشنی اور آگہی سے تشبیح دی جاتی ہے وہ ایک ایسی ترقی ہے جس میں نہ بجلی ہے نہ گیس نہ پانی۔۔ تعلیم، صحت، روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات چاند پہ بیٹھی اس بڑھیا کی مانند ہیں جسے تصور کر کے ہم روز سو جاتے ہیں اور دن بھر اس کی لئے دھکے کھاتے ہیں۔

اکیسویں صدی کے پاکستان میں نہ ہمارے دلوں میں احساس رہا نہ جذبات۔۔ سچ، سچ نہ رہا، جھوٹ کے معنی بدل گئے۔ سچ جھوٹ بن گیا اور جھوٹ سچ۔۔۔ اب یہاں تم، تم ہو اور میں، میں ہوں۔۔ یہی وجہ ہے کہ اگر شیعہ اپنے پیاروں کی لاشیں دفنانے کی بجائے انہیں روڈ پر رکھ کرصدائے احتجاج بلند کریں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ملک کے کسی کونے میں اگر کوئی ٹارگٹ کلنگ اور دھماکے میں مر جائیں تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے بلوچوں کے لواحقین کا قافلہ کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد پیدل لانگ مارچ کریں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔

پاک سر زمین اب نا ہی پاک ہے، نا ہی شاد ہے اور نا ہی آباد ہے

پاک سر زمین شاد باد اب پاک سر زمین برباد سے ذیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s