ہم اس دیس کے باسی ہیں ۔۔۔۔

 ???????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????????….جس دیس کے کونے کونے میں
نفرت کی چنگاری سلگتی ہے۔۔
دل درد سے بوجھل بوجھل ہے
آنکھوں سے مایوسی ٹپکتی ہے۔۔۔
عزت، غیرت کے نام پہ عورت
یہاں روز مرتی، بکتی ہے۔۔۔
انصاف کے اونچے ایوانوں میں
ناانصافی راج کرتی ہے۔۔۔
اسلام کے ٹھیکیدارو بتائو۔۔۔۔ !!!
کیا شیعہ کا خون پانی ہے؟
ہندو، عیسائی انسان نہیں؟
بلوچ، سندھی، سرائیکی، پٹھان۔۔
قومیت کی آڑ میں مرتے رہیں گے؟
دہشت گردی، غنڈہ گردی، بھتہ خوری، قتل،اغواء
کیا موت یونہی رقص کرے گی؟
pak3جس ملک میں غربت راج کرے۔۔۔
تاریکیاں طواف کریں۔۔
جہالت کے گہرے سائے میں
وحشت ننگا ناچ کرے۔۔
اس ملک کے باسی ہونے میں
کیا فخر کریں، کیا ناز کریں؟
ثیم انور

Aside

بلوچستان ؛ تعلیم واحد امید ہے

ناخواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ، بلوچستان سرِ فہرست ہے۔ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 23 لاکھ بچے غربت، وسائل کی کمی، بنیادی ڈھانچے میں کمزوریاں اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایسے میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے ذریعے کم خرچ پرلڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ بالخصوص مکران ڈویژن جس نے عطاء شاد، مبارک قاضی، واجہ فقیر بلوچ جیسے لوگ پیدا کئے اور مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کا علم بلند کئے رکھا، اصولی طور پر تو ایسے لوگوں کو سراہنا چاہیے تھا مگر تعریف تو کجا، مکران کے ڈسٹرکٹ پنجگور میں قائم تمام پرائیوٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے خلاف ایک غیر معروف شدت پسند گروہ “تنظیم الاسلامی الفرقان” کی طرف سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ ان پمفلٹ میں انگریزی تعلیم کو حرام قرار دیا گیا ہے اور دھمکی دی گئی ہےکہ جو بھی تعلیمی ادارہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھے گا ، اسے اسلام کا دشمن سمجھا جائے گا۔ اس کی ساتھ ساتھ طالبات کو اسکول لیجانے والے ٹیکسی اور وین ڈرائیوروں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ان طالبات کو اسکول لے کر جائیں گے تو انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا، اس دھمکی کے بعد تمام اسکول بند کر دیے گئے۔ گو کہ ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اسکول دوبارہ کھول دیے گئے لیکن چند روز بعد شدت پسند تنظیم کی جانب سے اسکولوں پر حملوں اور ایک اسکول وین کو آگ لگا نے کے واقعات کے باعث پنجگور کے تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں اور ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے خلاف پنجگور میں ہزاروں افراد کا احتجاج جاری ہے۔

کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں،اتنی سخت سیکیورٹی کے میں ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نوٹس لینے کے سوا تاحال کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی اور سکولوں کی بندش کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں فاٹا اور سوات میں بھی لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ۔ ایسے واقعات کا بار بار جنم لینا حکومت کی طرف سے موئژر پالیسی کا فقدان ہے۔ پنجگور میں اسکولوں کی بندش کا باعث بننے والی تنظیم کیا ان بلوچ حریت پسندوں سے زیادہ “محب وطن” ہے جو ریاست اور وفاق کے استحصال کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں لاپتہ افراد اور ان کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچوں کےلئے اجتماعی قبروں، فوجی کاروائیوں اور مسخ شدہ لاشوں کے بعد اپنے بچوں کے ان پڑھ رہ جانے کےخدشہ کے بعد ریاست اور وفاق سے وفاداری کا عہد وہ بہت عرصہ تک نہیں نبھا سکیں گے۔ ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔ اس سے پہلے کے بلوچستان کے طلبہ کو مقامی “بوکوحرام” کے ہاتھوں یرغمال ہونا پڑے، حکومت کو بلوچوں کی آنے والی نسل کو محفوظ بنانا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس نسل کو تحفظ دینے سے پاکستان اور بلوچستان کے درمیان کمزور ہوتے ہوئے رشتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے

ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔

محترم ڈاکٹر عبدلالمالک صاحب،
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
جنابِ والا: ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر
پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے

کہ آپ ہم میں سے نہیں رہے۔

originally posted in laaltain.com on May 31, 2014

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے ایک گزارش

Image 

محترم ڈاکٹرمالک بلوچ صاحب 

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

عرض یہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں جہاں بلوچ عوام پہلے ہی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، جہاں ہر روز بلوچ لاپتہ افراد کی لاشیں گر رہی ہیں، لاپتہ بلوچوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی چیخیں گونج رہی ہیں،ملٹری آپریشن ہو رہے ہیں، بلوچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں، ایک ڈر اور خوف پھیلا ہوا ہے، ایسے سنگین حالات میں ان کی بچی کھچی تعلیم کے ذرائع ختم کرنے کیلیے ایک نامعلوم گروہ کہیں سےاچانک پیدا ہو گیا ہے۔ پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے 15000 اہلکار تعینات ہیں،اتنے سخت سیکیورٹی کے حصار میں  ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے

 جنابِ والا:  ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور  میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں  نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔  اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے کہ آپ بھی اختیار کے بغیر اقتدار کی کرسی پر پراجمان رہنے والے ڈمی حکمران سے ذیادہ کچھ نہیں۔ اور مستقبل میں بلوچستان کے حالات میں آپ سے بہتری کی امید کو دفن کر دیں گے۔

                                                      شکریہ

Latif Johar .. an Icon of Bravery !!!

Since April 22, a young student Johar Latif has camped outside the Karachi Press Club. He is on a hunger strike. Johar demands the recovery of his leader, Zahid Baloch, who is the chairman of the Baloch Students Organization’s Azad faction (BSO-A). “I am on a hunger strike till death,” he says. “If I die, another member of the BSO-A will take my place.” – See more at: http://www.thefridaytimes.com/tft/hunger-strike/#sthash.cfLmdIlN.dpuf
Since April 22, a young student Johar Latif has camped outside the Karachi Press Club. He is on a hunger strike. Johar demands the recovery of his leader, Zahid Baloch, who is the chairman of the Baloch Students Organization’s Azad faction (BSO-A). “I am on a hunger strike till death,” he says. “If I die, another member of the BSO-A will take my place.” – See more at: http://www.thefridaytimes.com/tft/hunger-strike/#sthash.cfLmdIlN.dpuf

 

 

 

 

 

Since April 22, 2014 Latif Johar, 23 is on a hunger strike till death, camped outside Karachi Press Club, Pakistan. A young boy is demanding release of Zahid Baloch, Chairman BSO-A, taken away by law enforcement agencies of Pakistan. His health is deteriorating with each passing minute. His noble cause is to draw attention of Human right organization to stop Pakistan from committing serious human right violations in Balochistan. He deserves to live so are other Baloch who are in the illegal custody of law enforcement agencies.   

ImageLImageImageImageImageImageImageImageImageImageImageImageImage

Aside


Let us not turn Panjgur into Swat and wait for another Malala to be a saver!


 

 

Balochistan has been in turmoil since its occupation in 1948 and from that time up till now Balochistan has been facing insurgencies. Balochistan conflict started over the resentment of being illegally occupied by Pakistan and with passing of time this resentment turned into a movement of Baloch rights, and provincial rights. Unfortunately the impotency of Pakistan government and deployment of armed forces in Balochistan kept fueling the issue. Especially the death of Nawab Akbar Khan Bugti by Armed forces was the last nail in the coffin and since then the Baloch movement for rights has completely transformed in to a movement of a Free Balochistan.

 Never in Pakistan history, had government or establishment ever taken steps to resolve Balochistan issue peacefully. Instead, kill and dump policy, extra judicial killing, enforced disappearances, genocide, and military operations are the dirty tactics being adopted by government and establishment. Thousands of Baloch are missing; hundreds of their mutilated bodies have been found, mass graves of Baloch missing persons have been discovered, ongoing military operations in many parts of Balochistan, extreme human rights violation is what Baloch nation is suffering from. In reaction to this action, Baloch nation is not only forced to adapt arm resistance for survival but also 2000 km long march from Quetta to Karachi and Karachi to Islamabad and a recent hunger strike till death being observed by Latif Johar for the recovery of Baloch missing Persons is to draw attention of International human right organizations to intervene and resolve Balochistan conflict. pujgur threat

At the moment struggle of Baloch rights and use of full force by establishment to crush this movement is on peak. Baloch who are already suffering miserably are now being exposed to another threat from an underground organization Tanzeem-ul-Islami-ul-Furqan, an armed group based in Panjgur, Balochistan’s western district, has threatened 23 English Language Learning Centers to shut down and stop imparting co-education and teaching in English, which they say is ‘Haram (prohibited) in Islam’. Local police advised that under such circumstances girls should not go to school.This development came after the recent operation against Baloch (so called) militants. Though this is not an only attempt to discourage girls from getting education in Balochistan, many times educational institutions have been bombarded, girls have been threatened in past also from going to Schools and colleges.

It seems that someone is trying to radicalize people in Panjgur. This is the first time that we have seen Baloch women taking an effective part in the progressive Baloch rights movement. From doctors, lawyers, teachers to journalists, and political activists we can see the strong presence of Baloch women. Stopping girls from getting education means to seize the development of Baloch society. And to mention here Panjgur and Kech regions are known as centers of learning and the ‘intellectual capital of Balochistan’.

 In the preS-16sent scenario of Panjgur where along with Balochistan Levies and local Police, more than 15000  personnel of the army and the Frontier Corps (FC) are deployed, a heavily guarded district where a military  operation is also in a full swing has been threatened by an unknown organization. Question is; where does this  organization come from? How did it prevail under the strong presences of paramilitary forces? Who will benefit  from this threat? Why ‘halal’, ‘haram’ and ’Islam’ issues are only raised in the areas where Pak Army has dirty  targets to achieve?

 Unfortunately Pak Army and state carries a history of promoting radical Islam as a tool to fight against ‘unwanted’. Spilling-over of Taliban culture into Panjgur is not just a threat to Baloch nation but to bring down  Baloch Nationalist on their knees at any cost. The threat to eradicate education from Balochistan is an attempt to weaken the progress and prosperity of Baloch nation.

To save Baloch is directly proportional to saving Balochistan. In this worsening situation Mr. Sabir Baloch,    the Deputy Chairman of the Senate of Pakistan and Mr. Rehmat Baloch, Balochistan’s Health Minister      whose    native land is Panjgur should speak up and address this issue on federal and provincial level.  Also    humanitarian organizations and civil society should also raise slogan. Let us not turn Panjgur into Swat and wait for another Malala to be a saver!

پاکستان کا بلوچستان

Imageمجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہا کی میرا تعلق کویٹہ بلوچستان سے ہے۔ لیکن اس سے ذیادہ فخر ایک پاکستانی ہونے کا تھا۔ بالخصوص کچی عمر میں مطالعہ پاکستان میں اس صوبے کی دیو مالائی کہانیاں پڑھنے کے بعد جب شعور نے انگڑائی لی اور بلوچستان کے ننگے، خشک اور معدنیات سے بھرے ہوئے پہاڑ۔ صحرا۔ سمندر۔ بلوچوں کی روایات۔ تہذیب و تمدن اور ذندگی کو دیکھنے اور کھوجنے کا شوق ہوا تو میرا سر بحیثیت پاکستانی فخر سے مزید بلند ہو گیا۔ خاص طور پر اس صوبے میں فوج اور انٹیلے جنس کی کارکردگی نے پاکستانیت کے جذبے کو چار چاند لگا دیئے۔

 بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جا کر بہت خوشی محسوس ہوئی کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم نے پتھروں کے زمانے کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ بجلی۔ پانی۔ صحت ۔تعلیم ۔سڑکیں کچھ بھی تو نہیں ہے وہاں۔ محرومیوں، ناانصافیوں، ڈر اور خوف کے گہرے سایوں میں بلوچوں کی حق خود ارادیت کی جنگ جا بجا سلگتی نظر آتی ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت کا شکریہ کہ 1971 میں بنگالیوں کی نسل کشی کی داستان کو بلوچ نسل کشی سےدوبارہ ذندہ کیا اور عام پاکستانیوں کو اپنی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھنے کا موقع فراہم کیا کہ پاکستانی فوج اور حکومت اپنی لالچ ، خودغرضی اور مفاد کے لئے بربریت کا طوفان اٹھانے میں قطعی دریغ نہیں کرتی، جا بجا ایف سی اور پولیس کی چیک پوسٹیں بلوچوں کے تحفظ سے ذیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے کالے کرتوتوں کی پردہ پوشی کرتی نظر آتی ہے۔ مستونگ، قلات، خضدار، پنجگور، ڈیرہ بگٹی، مکران میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہان ماتم نہ ہو۔ کوئی اپنی پیارے کی انٹیلےجنس اداروں کے یاتھوں گمشدگی پر سراپا احتجاج تو کوئی اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشوں پر نوحہ کناں۔

اب سمجھ میں آیا کہ پاکستانی قوم کو ‘ڈھٹاَیئ” ورثہ میں ملی ہے۔ ماما قدیر کا لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کوئتہ تا کراچی اور کراچی تا اسلام آباد پیدل لانگ مارچ، توتک سے اجتعماعی قبروں کی دریافت، مکران، قلات، ڈیرابگٹی اور پنجگور آپریشن۔ سوشل میڈیا پر بلوچوں کے خلاف پاکستان کی ریاستی ایجنسیوں کی  بربریت پر چیختی چنگھاڑتی قلمیں، سپریم کورٹ میں موجود ایف سی کے بلوچوں کے خلاف گھنائونے جرائم کی ویڈیوز اور لطیف جوہر کی حالیہ تادم مرگ بھوت ہڑتال اور پاکستان کی حکومت اور فوج کا ان الزامات سے مسلسل انکار ڈھٹائی کی ایک ایسی مثال ہے جس سے ہمارے سر یقینناْ فخر سے بلند ہو گئے ہیں۔

بحیثیت باکستانی ہمیں فوج سے اتفاق ہے کہ ہر وہ بلوچ جو اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرے وہ قومی غدار ہے۔ بلوچوں کی سونا اگلتی زمینوں پر صرف  فوج اور وفاق کا حق ہے۔ پانی، بجلی، گیس، تعلیم، اور صحت کی جیسی تیسی ضرورت صرف پاکستانیوں کے لئے ہے، بلوچوں کو لئے نہیں۔ سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں بچھے سڑکوں کے جال بلوچستان میں اچھے نہیں لگتے۔ ہاں بلوچوں کو صرف اور صرف پسماندہ رکھنا چایئیے کیونکہ وہ اپنا جائز حق مانگتے ہیں۔ بلوچوں کو کچھ بھی مانگنے کا حق نہیں کیونکہ اس ملک کے ارباب اختیار نے1948  میں بلوچوں کے نصیب میں محرومی اور پسماندگی لکھ دی تھی۔ بلوچ قومی غدار ہے کیونکہ اسے اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنی روایات کی پاسداری سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں۔ اور ہمیں بحیثیت پاکستانی اس بات پر فخر ہے کہ اپنی انا اور مفاد کی جنگ میں ہم ان روایات اور تہذیبوں کو بندوقوں، ٹینکوں، مارو پھینکو پالیسی اور نسل کشی جیسے حربوں سے کچلنے کے ماہر۔

 وفاقی و صوبائی حکومتیں بحی ہمارے لئے باعث فخر ہیں کہ جن کا مقصد صرف اقتدار ہے اور اس اقتدار کی آڑ میں سیندک، ریکوڈک اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں سے کروڑوں ڈالر جیب میں ڈالنے کی تمنا۔ ظاہری سی بات ہے کہ جب تک ایک بھی غیرت مند بلوچ ذندہ ہے، یہ تمنا حسرت ناکام سے ذیادہ کچھ بھی نہیں کہ غیرت مند بلوچ اپنی مٹی کی حفاظت کے لئے نہ کسی کے آگے جھکتا ہے نہ بکتا ہے۔ منیر احمد بلوچ، آغا عابد شاہ، فراز کریم، یونس فقیر، سنگت ثناء، علی شیر کرد، حمید شاہین، ذولفقار لانگو، عابد سلیم، طارق کریم اور ایسے ہے بیشمار بلوچ جو ریاستی دہشت گردی کے کا نشانہ بنے اور ایسے ہی بیشمار بلوچ جو ان اداروں کی غیر قانونی حراست میں ہیں، انہیں مارنے سے کچھ نہیں ہو گا کہ ان کی موت  جسم کی موت ہے نظریے کی نہیں۔ بحرحال پاکستان میں  اپنا حق مانگنے والے قومی غدار جبکہ حقوق پر قبضہ کرنے والے وطن کے رکھوالے اور ہم جیسے خاموش تماشائی  محب وطن پاکستانی کہلاتے ہے۔ پرہجوم لوگوں کے پاکستان میں جو ریاستی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا وہ اس ملک  اور اس کی افواج پہ فخر کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے؟

Humanity is Calling

Humanity is calling!! Image

Life every man holds dear; but the dear man holds honor far more precious dear than life. William Shakespeare

This is exactly what Latif Johar is doing rights now by observing “Hunger Strike till Death” against the illegal abduction of Zahid Baloch, Chairman of BSO-Azad by Pakistani Law Enforcement Agencies on March 18, 2014 from Quetta. His abduction is witnessed by Kareema Baloch and other BSO leaders who were coming out of a meeting when they were stopped by Frontier Corps personnel. They took him away after a few minutes of on-spot interrogation.

Though issue of Baloch Missing Persons has been registered in the Supreme Court of Pakistan but nothing has been done so far. 2000 km long march from Quetta to Karachi and Karachi to Islamabad by the families of Baloch Missing Persons failed to get attention of the Pakistan Government and media. Even the campaign on social media against the illegal abduction and extra judicial killing by Pakistani law enforcement agencies has only bring the awareness in Pakistan community but no practical steps have been taken to ensure the safety of Baloch Missing Persons. This clearly indicates the power and dominancy of Pakistan security agencies over the government, judiciary and media.

ImageOn January 25, 2014 discovery of mass graves from Tutak, Khuzdar with 103 decomposed bodies are claimed to be of the Baloch Missing Persons; Government officials confirmed that the bullet-riddled bodies have been dumped in unmarked graves — many of them considered to be mass graves exposes the gross human rights abuses perpetrated by the security forces over the years in a bid to suppress a popular uprising against the government. Discovery of mass graves is still a mystery as media coverage was, and is prohibited in this regard.

According to the Commission on the Inquiry of Enforced Disappearances, the total number of cases currently stands at 621. However this figure is contested by Nasrullah Baloch, the chairperson of the Voice for Baloch Missing Persons. According to him 23,000 is the number of registered cases. From this, a whole 14,000 came during the current government’s tenure.

To mention here, Pakistan’s well known journalist Hamid Mir who received 6 bullets on April 19, 2014 – in his recent statement held ISI responsible of the attack for covering Baloch Missing Person’s long march. According to The Centre for Research and Security Studies (CRSS), at least 22 journalists have been killed in the province during the past four years.Image

In this scenario, Baloch are completely disappointed with Pakistan government, judiciary, and media. The powerful law enforcement agencies only reply to these human right violations in Balochistan is more abduction and more killing. Discussing Balochistan issue in Pakistan means calling your death!

ImageAs Pakistan has failed miserably in 64 years to resolve Balochistan conflict, therefore under such circumstances, the only hope of justice for Baloch is The Office of the High Commissioner for Human Rights, Amnesty International, Human Rights Watch, Special Adviser on the Prevention of Genocide,and other human right organization to step in and take notice of the massacre in Balochistan. Disheartened from Pakistan, Baloch needs and have right to live. They are human too and human right organizations must intervene and prove that they do exist to save humanity.